ویرانوں میں اے جگنو




ویرانوں میں اے جگنو
کس کو ڈھونڈ رہا ہے تو ؟
ان بے معنی باتوں کے
اب کیا کیا نکلے پہلو
خون جلایا ساری رات
پائے مٹھی پھر آنسو
کتنی تازہ ہے اب تک
بیتے لمحوں کی خوشبو
باصر اتنے غموں کے ساتھ
کیسے خوش رہتا ہے تو ؟
باصر سلطان کاظمی




اپنا تبصرہ بھیجیں