سر سے چادر بدن سے قبا لے گئی




سر سے چادر بدن سے قبا لے گئی
زندگی ہم فقیروں سے کیا لے گئی
میری مٹھی میں سوکھے ہوئے پھول ہیں
کوشبوؤں کو اڑا کر ہوا لے گئی
میں سمندر کے سینے میں چٹان تھا
رات اک موج آئی بہا لے گئی
ہم تو کاغذ تھے آنسو سے بھیگے ہوئے
کیوں چراغوں کی تو تک ہوا لے گئی
میری شہرت سیاست سے محفوظ ہے
یہ طوائف بھی عصمت بچا لے گئی
چاند نے رات مجھ کو جگا کر کہا
ایک لڑکی تمہارا پتہ لے گئی
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں