سنو پانی میں یہ کس کی صد ہے




سنو پانی میں یہ کس کی صد ہے
کوئی دیرا کی تہہ میں رو رہا ہے
سویرے میری ان آنکھوں نے دیکھا
کدا چاروں طرف بکھرا ہوا ہے
اندھیری رات کا تنہا مسافر
مری پلکوں پہ اب سہا ہوا ہے
سمیٹو اور سینے میں چھپا لو
یہ سناٹا بہت پھیلا ہو ا ہے
حقیقت سرخ مچھلی جانتی ہے
سمندر کتنا بوڑھا دیوتا ہے
پکے گیہوں کی خوشبو چیختی ہے
بدن اپنا سنہرا ہو چکا ہے
ہماری شاخ کا نوخیز پتہ
ہوا کے ہونٹ اکثر چامتا ہے
مجھے ان نیلی آنکھوں نے بتایا
تمہاری نام پانی پر لکھا ہے
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں