وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے




وہ جہاں تھے وہیں کھڑے ہوں گے
جو کسی بات پر اڑے ہوں گے
پالنوں میں کہیں پڑے ہوں گے
کل جو سورج بہت پڑے ہوں گے
اب نئے ذہن اور آئیں گے
امتخانات بھی کڑے ہوں گے
تاجداروں کے سر چڑھے ہیرے
آج پاپوش میں جڑے ہوں گے
ایک چھوٹے سے سائباں کیلئے
عمر بھر دھوپ سے لڑے ہوں گے
میں اٹھا کر غزل بنا دوں گا
لفظ جتنے کرے پڑے ہوں گے
سات رنگوں کے سات تاج محل
ایک دیوار میں جڑے ہوں گے
دھوپ کب تک مجھے ستائے گی
کل مرے پیڑ بھی بڑے ہوں گے
کتنے لہجے بشیر بدر ہوئے
اپنے پیروں پہ کب کھڑے ہوں گے
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں