یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں




یہ زرد پتوں کی بارش مرا زوال نہیں
مرے بدن پہ کسی دوسرے کی شال نہیں
اداس ہوگئی اک فاختہ چہکتی ہوئی
کسی نے قتل کیا ہے یہ انتقال نہیں
تمام عمر غریبی میں باوقار رہے
ہمارے یہد مین ایسی کوئی مثال نہیں
میں آسمان کا ٹوٹا ہوا ستارہ ہوں
کہاں ملی تھی یہ دنیا مجھے خیال نہیں
وہ لاشریک ہے اس کا کوئی شریک نہیں
وہ بے مثال ہے اس کی کوئی مثال نہیں
کوئی خوشی ہو میں اپنی حدوں مین رہتا ہوں
مرا ملال بھی حد سے سدا ملال نہیں
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں