یہ اگر انتظام ہے ساقی




یہ اگر انتظام ہے ساقی
پھر ہمارا سلام ہے ساقی
آج تو اذن عام ہے ساقی
رات رندوں کے نام ہے ساقی
میرے ساغر میں کون اترا ہے
چاند تاروں کا جام ہے ساقی
ایک آئے گا ایک جائے گا
میکدے کا نظام ہے ساقی
جام ٹوٹے صراحیاں ٹوٹیں
کیا ادھر قتل یام ہے ساقی ؟
تیرے ہاتھوں سے پی رہا ہوں شراب میکدہ میرے نام ہے ساقی
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں