وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں




وہ شاخ ہے نہ پھول اگر تتلیاں نہ ہوں
وہ گھر بھی کوئی گھر ہے جہاں بچیاں نہ ہوں
پلکوں سے آنسوؤں کی مہک آنی چاہیے
خالی ہے آسمان اگر بدلیاں نہ ہوں
دشمن کو بھی خدا کبھی ایسا مکاں نہ دے
تازہ ہوا کی جس میں کہیں کھڑکیاں نہ ہوں
میں پوچھتا ہوں میری گلی میں وہ آئے کیوں
جس ڈاکیے کے پاس تری چھٹیاں نہ ہوں
بشیر بدر




اپنا تبصرہ بھیجیں