ان کے ماتھے پہ جب شکن دیکھی




ان کے ماتھے پہ جب شکن دیکھی
دل میں ہم نے بہت گھٹن دیکھی
کل کے ظالم کی، آج آنکھوں سے
لاش بے گور بے کفن دیکھی
ذہن وہم و گماں میں ڈوب گیا
اس کے چہرے پہ جب تھکن دیکھی
اجلی سوچوں کے شہر میں بربط
شب کے دامن میں اک کرن دیکھی
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں