جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھپا کر




جنہیں ہم نے آنکھوں میں رکھا چھپا کر
وہ گزرے ہیں پہلو سے آنکھیں چرا کر
مری زندگی میں جمود آگیا ہے
نئے حادثے کی کوئی ابتدا کر
غموں کے اندھیروں میں گم ہو گیا ہے
دلوں میں چراغ محبت جلا کر
مسرت کے گیتوں پہ سر دھننے والے !
کبھی غمزدوں کے تو نالے سنا کر
یہ دنیا تو یکسر ہے پر خار بربط
یہاں سے گزرنا ہے دامن بچا کر
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں