سپنے جو تری مست جوانی کے لیے تھے




سپنے جو تری مست جوانی کے لیے تھے
وہ خواب مری شام سہانی کے لیے تھے
ہم نے جو بڑھاپے کے لیے سینت کے رکھے
وہ زخم مری جان جوانی کے لیے تھے
باعث ہوئے ، صد شکر ، ترے دکھ کی کمی کا
یہ لفظ فقط میری کہانی کے لیے تھے
کیوں کر دے دنیا نے کسی اور سے منسوب
وہ درد جو اشکوں کی روانی کے لیے تھے
کیوں بھر دیے بربط وہ زمانے کی روش نے
جو زخم محبت کی نشانی کے لیے تھے
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں