معصومیت کے روپ میں رہزن دکھائی دے




معصومیت کے روپ میں رہزن دکھائی دے
جو بھی ملے وہ پیار کا دشمن دکھائی دے
میرے بدن پہ اس طرح زخموں کی ہے بہار
تاروں بھری سی رات کا آنگن دکھائی دے
اڑنے لگی جو گرد کبھی ماہ و مال سے
یادوں کی اوٹ سے مرا بچپن دکھائی دے
کچھ اس طرح بہے مرے آنسو شب فراق
دنیا کو میری آنکھ میں ساون دکھائی دے
میں وحدت الوجود کا بربط قتیل ہوں
مجھ کو ہر اک وجود میں ساجن دکھائی دے
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں