خود کو حالات کے سانچے میں نہ ڈھالا میں نے




خود کو حالات کے سانچے میں نہ ڈھالا میں نے
ہر برے وقت میں بھی عہد کو پالا میں نے
اے مرے دوست زمانے کی روش سے ہٹ کر
ہر قدم اپنا اٹھایا ہے نرالا میں نے
اپنے پاؤں پہ کھڑا رہنے کی عادت دالی
عمر بھر ہی نہ لیا کوئی حوالہ میں نے
اپنے سب کام کیے قادر مطلق کے سپرد
فکر دنیا کو دیا دیس نکالا میں نے
دو قدم چل نہ سکا دور ہوس میں بربط
اپنی فطرت کو نئی راہ پہ ڈالا میں نے
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں