کبھی بھی اس طرف سوچا نہیں تھا




کبھی بھی اس طرف سوچا نہیں تھا
غلط فہمی تھی، تو اپنا نہیں تھا
خبر کیا تھی مجھے تو چھوڑ دے گا
جدائی کا کبھی سوچا نہیں تھا
شکایت حال کی کس طرح کرتا
مرا ماضی بھی کچھ اچھا نہیں تھا
تو میری سوچ کا مرکز بنے گا
خیال و خواب میں آیا نہیں تھا
سراسر جھوٹ ہے جو کچھ سنا ہے
خدا شاہد ہے میں ایسا نہیں تھا
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں