تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے




تھک ہار کے بیٹھا ہوں کوئی آس نہیں ہے
یہ دور کسی طور مجھے راس نہیں ہے
کھلتے تو ہیں پھولوں کی طرح زخم جگر بھی
پھولوں کی طرح ان میں مگر باس نہیں ہے
تاریک فضاؤں میں کرن پھوٹ رہی ہے
صد شکر ، نئی فکر میں اب یاس نہیں ہے
بس ایک ہی ٹھوکر سے سنبھل جاتی ہیں قومیں
مٹ جا تی ہے، جس قوم میں احساس نہیں ہے
بربط مرا جینا تو غریبوں کے لیے ہے
آسودگی ء ذات مجھے راس نہیں ہے
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں