ضبط کا دامن تھاما ہوتا




ضبط کا دامن تھاما ہوتا
عشق نہ یونہی رسوا ہوتا
سوچ سمجھ کر دوست بناتے
پیتل کیونکر سونا ہوتا
کن آنکھوں سے دیکھا تونے
میری آنکھ سے دیکھا ہوتا
شہر پرایا جان اکیلی
کاش کوئی تو اپنا ہوتا
بربط کیسا پچھتاوا ہے
پیار سے پہلے سوچا ہوتا
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں