یہ آرزو ہے غریب جاگے




یہ آرزو ہے غریب جاگے
مرے وطن کا نصیب جاگے
یہ فرق دیکھو معاشرے کا
مریض سوئے طبیب جاگے
کھلی نگاہوں میں خواب اپنے
بطرز رنگ عجیب جاگے
معاشرے کا مطالبہ ہے
ہر اک شریف و نججیب جاگے
جہاں میں قومیں وہ معتبر ہیں
کہ جن کا مخلص خطیب جاگے
ہے اپنا اپنا نصیب بربط
ہمیشہ زیر صلیب جاگے
بربط تو نسوی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں