ہر نئے دور میں تخلیق کا جادو بر حق




ہر نئے دور میں تخلیق کا جادو بر حق
سینکڑوں سال کے بعد آج بھی باہو برحق
اتنا مخلص ہوں میں لفظوں کی شجر کاری میں
جیسے تپتے ہوئے صحراؤں میں پیلو برحق
کرکسی نسل کے سارے ہی پرندے جھوٹے
فاختہ ذہن کے سارے ہی پکھیرو برحق
خیمہ گرد میں سہمی ہوئی آنکھیں سچی
خاک اور خون میں لتھڑے ہوئے آنسو برحق
بیدل حیدریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں