اسیر




کھوئی آنکھیں دیکھ رہی ہیں
دھندلے سے کچھ خواب
یا ان کی تعبیر
ہاتھوں پر تحریر ہے کیسا
الجھا سا اک لفظ
یا ہے صرف لکیر
کاندھوں پر رکھا ہے میرے
سوصدیوں کا خوف
میری کل جاگیر
پیروں نے باندھا ہے مجھ کو
سرد ز میں کے ساتھ
کیا سوچوں تدبیر
بس میں اگر ہو اندھیاروں کے
خوشبو کر لیں قید
رنگ کریں زنجیر
کھول کے آنکھیں دیکھ سکوں تو
اس دہلیز کے پار
اور ہی ہے تصویر
پار کروں میں ایک ہی جست میں
خوف کی ہر دیوار
جبر کی ہر زنجیر
لیکن میری اپنی آنکھیں ؟
میری اپنی ذات ؟
صدیوں کی تعمیر؟
میری کل جاگیر؟
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں