لہجے سے بناوٹ کا اثر جھانک رہا ہے




لہجے سے بناوٹ کا اثر جھانک رہا ہے
آنکھوں سے کوئی اور مگر جھانک رہا ہے
اندازہ ہو ا ہے مجھے انجام سفر کا
ہر لہر سے بے رحم بھنور جھانک رہا ہے
الفاظ ہیں ایسے کہ دہل جائے یہ دنیا
آواز میں لرزش ہے کہ ڈر جھانک رہا ہے
تھک ہار کے پہنچی تو کرن خاک ہوئی ہے
صحراؤں سے اک اور سفر جھانک رہا ہے
اس شام ستاروں کا عجب رنگ ہے جاناں
مدھم ہیں لویں، خواب نگر جھانک رہا ہے
آواز کا جنگل ہے مرے ساتھ سفر میں
ہر موڑ پہ شوریدہ شجر جھانک رہا ہے
ہر بار نئے طور سے مصلوب کرے وہ
اس ہاتھ سے کیسا یہ ہنر جھانک رہا ہے
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں