تعارف




اجنبی شہر کے درودیوار
ایسی مانوسیت میں لپٹے ہیں
جیسے صدیوں سے ان زمینوں میں
آتے جاتے رہے ہیں میرے قدم
جس عمارت کو یہ نظر دیکھے
اس کی انجان سی بناوٹ بھی
ایک لمحے کو اجنبی نہ لگی
اور دریچوں سے جھانکتے چہرے
میری آنکھوں پہ نقش تھے گویا
ان کے ہونٹوں پہ لفظ تھے جتنے
میرے ادراک میں نہیں آتے
پھر بھی میری سماعتیں جیسے
ایک مدت سے جانتی ہیں انہیں
گو دہکتا ہے آفتاب یہاں
اور سلگتی ہے اجنبی دھرتی
پر کسی طور سے، کسی پل بھی
یہ تمازت نئی نہیں لگتی
دور تک دشت کا نظارا ہے
اور پھر دوسری طرف ساگر
ایسا منظر مری نگاہوں نے
پہلے دیکھا نہ تھا، مگر پھر بھی
ایسا لگتا ہے، دیکھ رکھا ہے
کیوں تمہارے نگر کے سب موسم
میرے دل کے لئے شناسا ہیں
کیوں مجھے اس طرح لگے جاناں
جیسے صدیوں سے ان زمینوں پر
آتے جاتے رہے ہیں میرے قدم !
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں