محبتوں کی شعائیں بکھیرتا سورج




محبتوں کی شعائیں بکھیرتا سورج
چلا گیا ہے مگر ہے افق ابھی روشن
چلا گیا ہے مگر ذہن کے دریچوں میں
جو حرف اس نے لکھے تھے، وہ ہیں سبھی روشن
اسے سمیٹ لیا ہے زمیں کی چاہت نے
مرے فلک پہ جو خاور رہا کبھی روشن
مہیب سائے مرے بام و در پہ لہرائے
تھے کل تلک تو ستارے یہاں سبھی روشن
نقوش راہ پہ اقبال اور قائد کے
قدم بڑھاتا چلا کیسا رازدان تھا وہ
تھا میرے گھر کے د رو بام کا محا فظ بھی
فصیل پاک وطن کا بھی پاسبان تھا وہ
وہ آگہی کے دیئے ہر طرف فلاتا چلا
مری زمیں پہ بصیرت کا آسمان تھا وہ
نہ خوف تھا کوئی اس کے وجود کے دم سے
وہ سر پہ سایہ تھا، اس گھر کا سائبان تھا ہو
وہ پاس تھا مرے، ایسا گمان ہو تا تھا
کہ میں کھڑی ہوں کسی نخل سایہ دار تلے
ہر ایک سمت ہیں روشن چراغ رکھے ہوئے
ہوا کی اوٹ میں، رنگوں کی آبشار تلے
جو وہ نہیں ہے تو اب اس طرح سے لگتا ہے
سمٹ گئے سبھی لمحیکسی غبار تلے
کہ رنگ اڑ گئے ظالم ہوا کے جھونکے سے
کہ خواب چھپ گئے ہر چشم اشک بار تلے
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں