نجوم شب کو حیرانی بہت ہے




نجوم شب کو حیرانی بہت ہے
زمیں پر آج ویرانی بہت ہے
تمہاری بات انجانی بہت ہے
مری آنکھوں میں اب پانی بہت ہے
عجب کدشوں کی جاگی سرسر اہٹ
ہوا کیوں آج بیگانی بہت ہے
مری نیا شکستہ ہے خدایا
ادھر دریا میں ظغیانی بہت ہے
قدم دہلیز پر اس نے دھرے ہیں
مگر آہٹ تو انجانی بہت ہے
چلو دریا کا ہی رخ ہم بدل دیں
اسی مشکل میں آسانی بہت ہے
سکوت شام میں کتنے دنوں تک
تمہاری بات دہرانی بہت ہے
سجی آنکھوں سے سپنے چھیننے میں
یہ میرا شہر لاثانی بہت ہے
چمن میں پیڑ بھی کوئی نہیں ہے
ہوا کا رنگ بھی دھانی بہت ہے
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں