تیر تو غیر کی کمان کے تھے




تیر تو غیر کی کمان کے تھے
ہاتھ پر ایک مہربان کے تھے
اس کے لہجے میں سچ تو تھا لیکن
رنگ گہرے مرے گمان کے تھے
دور تک بھیگتا ہوا جنگل
وا دریچے ترے مکان کے تھے
کچھ طلسم نجوم شب بھی تھا
کچھ کرشمے بھی تیرے دھیان کے تھے
تھا وہ جا دو سا آسمانوں میں
شوق اس سے سوا اڑان کے تھے
میں جب آئی تو وہ سفر میں تھا
اور ارادے بھی آسمان کے تھے
میں ٹھہرتی یا وہ ٹھہر جاتا
سائے بس ایک سائبان کے تھے
نیند خوابوں کو چھو کے لوٹ آئی
آخری موڑ داستان کے تھے
نہ اسے، نہ مجھے ہی راس آئے
راستے یہ جو درمیان کے تھے
جب ہوا تھم گئی، تبھی جانا
طور کچھ اور بادبان کے تھے
پھر بھلا کس طرح منع کرتی
فیصلے چشم مہربان کے تھے
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں