یاس کے مہر نے اس بام سے ڈھلنا کب تھا




یاس کے مہر نے اس بام سے ڈھلنا کب تھا
وہ جو ملتا بھی تو اس دل نے سنبھلنا کب تھا
تم نے اچھا کیا، آنے کا ارادہ چھوڑا
دشت کی شام تھی، طوفان نے ٹلنا کب تھا
وہ تو پلکوں پہ ستارے ہی چمکنا بھولے
ورنہ اس خواب سے منظر نے بدلنا کب تھا
لے چلے گی یہ ڈگر کون سی منزل کی طرف
گر مسافر کو خبر ہوتی تو چلنا کب تھا
لے گئی ریگ رواں ساتھ بہا کر ورنہ
خوف کی سرد زمینوں سے نکلنا کب تھا
عنبرین صلاح الدین ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں