ہم کبھی چشم زمانہ سے نہ پنہاں ہونگے




ہم کبھی چشم زمانہ سے نہ پنہاں ہونگے
ہم ہر اک دور میں ہر دل میں نمایاں ہونگے
درد بن کر نفس نے میں سما جائیں گے
سوز بن کر حرم دل میں فروزاں ہونگے
ہم خزاں ہو کے بھی ہیں رونک بزم عالم
ہم نہ ہوں گے تو کہاں جشن بہاراں ہونگے !
ہم جلیں گے کہ ترے نام کی لو روشن ہو
ہم بہر رنگ تری زیست کا سماماں ہونگے
سوزش درد میں ہے عرش قیامت پنہاں
وہ بھی کیا ہوں گے جو اس درد کا درماں ہونگے
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں