خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں




خیال و خواب کے سائے میں ہم رہے برسوں
بڑھے نہ آگے در کوئے یار سے برسوں
چلی ہے اہل جنوں کی خدائے کعبہ سے
کہ اس دیار میں بھٹکے ہیں دل جلے برسوں
ترے بغیر وہ بدلی فضائے زیست کہ ہم
اسیر حلقہء زنجیر غم رہے برسوں
بساط غم نہ اٹھائی حیات تیرہ نے
کچھ ایسے دور ہوئے ہم نہ مل سکے برسوں
گذر بہار کا ہوتا رہا ادھر، لیکن
تہی حیات سے دامان گل رہے برسوں
رہے اک عمر اسیر خیال سود و زیاں
بڑھا کئے من و منزل میں فاصلے برسوں
رہے جنوں ہی جہاں رہنمائے ہوش و خرد
مرے قریب نہ آئے وہ مرحلے برسوں
کبھی تو ان کا گزر ہو اس انتظار میں ہم
چراغ راہ بنے اور جلا کئے برسوں
انہی کے ساتھ گئی عرش روح بزم طرب
لٹے لٹے سے نظر آئے میکدے برسوں
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں