جہاں کے دل میں لہو بن کے پھر رہے ہیں ہم




جہاں کے دل میں لہو بن کے پھر رہے ہیں ہم
ارم ہے خاک نشینوں کے نام سے عالم
ہماری ذات سے ہے بزم کائنات میں رنگ
کہ ہم نہ تھے تو نظام حیات تھا برہم
جو ہم نہ ہونگے تو ہو گا یہاں ہمارا نام
کہ نقش وقت کے ماتھے پہ ہوگئے ہیں ہم
مرا قرار ہے پنہاں بھڑک کے جلنے ہیں
مرے چراغ وفا کی نہ ہو گی لو مدھم
حدود دل کو ملا دے حدود دوراں سے
مری وفا کا ترے دل میں گھٹ نہ جائے دم
ہماری آتش شل ان کے دل میں جا پھوٹی
ہمیں فراق میں جلنے کا اب نہیں ہے غم
خروش زیست رہا عرش ہر نفس تازہ
شکست دل کی صدا آرہی ہے گو پیہم
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں