عشق




خوشی ملی ہے مگر ایک بے کلی سی ہے
تو مل گیا ہے مگر اب بھی اک کمی سی ہے
یہ تیرا حسن ، ترا نور، تیرا رنگ جمال
مہک یہ تیری ترا رقص تیری چال کا جال
یہ شام زلف یہ چہرے کا آفتاب سحر
مرا فسوں تھا مرا پر تو نظر تھا مگر
نہ تجھ کو اس کی خبر تھی نہ تھا مجھے معلوم
یہ میں ہی میں تھی اگرچہ تھا نکتہ موہوم
اگر تھا تو مری منزل تو پھر کمی کیسی !
کھلا یہ راز مجھے تیری جستجو ہی نہ تھی
ازل سے اپنی ہی تصویر کا میں عاشق تھا
ازل سے تھا مجھے اپنے ہی حسن کا سودا
مجھے تھا اپنی ہی تکمیل کا ازل سے جنوں
غلط غلط کہ میں ہوں کوئی تیرا صید زبوں
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں