ہم کہ خاموش سوئے اہل پیاں دیکھتے ہیں




ہم کہ خاموش سوئے اہل پیاں دیکھتے ہیں
راز انداز تلکم سے عیاں دیکھتے ہیں
جان لیوا ہے فریب رہ گلزار طلب
نشتر شوق قریب رگ جاں دیکھتے ہیں
ہے اسی گھر میں کہیں گو ہر امید نہاں
سوئے ویرانہ ء دل بہر اماں دیکھتے ہیں
کیسے بنتا ہے لہو سرخیء افسانہ ء دل
کیسے بنتا ہے قلم نوک سناں دیکھتے ہیں
آتش شوق کو رکھتے ہیں بہر طور جواں
خاک گلشن مین زر گل کے نشاں دیکھتے ہیں
خشمگیں آج وہ یوں ہی ہیں کہ نہیں تاب سخن
عرش ہم آج ترا زور بیاں دیکھتے ہیں
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں