تابندہ حسن زار بہاں ہمیں سے ہے




تابندہ حسن زار بہاں ہمیں سے ہے
نظم خزاں جو ہے تو ہراساں ہمیں سے ہے
اپنے لہو کا رنگ ملا ہے بہار میں
لالہ مثال شعلہء رقصاں ہمیں سے ہے
جلتا ہے اپنا حوں ہی سر بزم رات بھر
اے حسن بے خبر یہ چراغاں ہمیں سے ہے
ہم آج شہر یار کے معتوب ہیں تو کیا !
ہر دم وہ اپنے شہر میں ترساں ہمیں سے ہے
دل فریب زندگی میں بے طرح الجھا رہا
عشق کو ازاد پتھر کو صنم کہتے رہے
کم سوادوں کو مسیحا نا خداؤں کو خدا
بود کو نا بود ہسی کو عدم کہتے رہے
اپنے خوں سے داستان غم رقم کرتے رہے
لوح دل کو، نوک خنجر کو قلم کہتے رہے
آرزو کے کتنے بت خانے تھے اس دل میں پنہا ں
عرش جس دل کو سبھی طاق حرم کہتے رہے
عرش صدیقی ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں