رات یوں دل میں رتی کھوئی ہوئی یاد آئی




رات یوں دل میں رتی کھوئی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے پہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
فیض احمد فیض




اپنا تبصرہ بھیجیں