ہونٹوں پہ نہیں اب وہ تبسم کا بسیرا




ہونٹوں پہ نہیں اب وہ تبسم کا بسیرا
زلفوں میں وہ راتیں ہیں نہ آنکھوں میں سویرا
گل ہو گئی قندیل شبستان نظر کی
چتون کے چراغاں پہ برستا ہے اندھیرا
جوبن سے ڈھلک کر وہ شرارت سے فضا میں
لہراتا نہیں اب ترے آنچل کا پھریرا
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں