ہر قدم پر اک سنہرا جال پھیلا یا گی




ہر قدم پر اک سنہرا جال پھیلا یا گیا
آرزوؤں کے سلاسل میں مجھے لایا گیا
میرا افسانہ ہی ہر محفل میں دہرایا گیا
میرا ہی نغمہ تھا جو ہر ساز پر گایا گیا
ابر پارے جگمگا اٹھے شرار برق سے
یا فضاؤں میں ترے آنچل کو لہرایا گیا
تیرے فارغ کی جوانی ایک نغمہ تھا جسے
زندگانی کے سلگتے ساز پر گایا گیا
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں