بیاں روداد غم ہائے نہانی کر نہیں سکتے




بیاں روداد غم ہائے نہانی کر نہیں سکتے
مرے آنسو بھی دل کی ترجمانی کر نہیں سکتے
یہ بہکی بہکی ساز دل کی تانیں کون روکے گا
غم و اندوہ اخفائے جوانی کر نہیں سکتے
کہا ہے جب سے ان کو زندگی اپنی ، پریشاں ہیں
کہ ترک آرزوئے زندگانی کر نہیں سکتے
وہ ہلکی سی ترمن زیز صورت دل نشیں فارغ
ہزاروں نغمے جس کی ترجمانی کر نہیں سکتے
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں