اک لفظ حادثہ ہے




اک لفظ حادثہ ہے
بے رحم خامشی میں
حساس تیرگی میں
سناٹا گونجتا ہے
اک حرف بھی ہے رسوا
اک بات بھی ہے چرچا
اک لفظ حادثہ ہے
اندھی ہو جب عقیدت
مفلوج ہو بصیرت
ہر رنگ ایک ساہے
بھٹکی ہوئی نظر میں
اوہام کے سفر میں
پتھر بھی دیوتا ہے
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں