ابتدائیہ




کتنے طاقوں کی شمعیں بجھاتے ہوئے
ایک قندیل کو میں نے روشن کیا
اور اس روشنی کا سہارا لیا
ظلمتوں میں خرابوں میں بڑھتا رہا
مدتوں اپنے بھٹکے ہوئے ذہن کو
میں نے تسکین کی محض اوہام سے
تشنگی کو بجھانے میں کوشاں رہا
سالہا سال تک میں تہی جام سے
میں ضیا جس کو سمجھا تھا دراصل وہ
تیرگی کے مقدر کی معراج تھی
ذہن میں جگمگاتی تھی قندیل جو
روشنی کے لئے وہ بھی محتاج تھی
وہ ستارہ حقیقت میں ثابت ہو
ظلمتوں کی نگاہوں کا پالا ہوا
اس کے جاتے ہی اک انقلاب آ گیا
چار جانب اجالا اجالا ہوا
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں