منشور




بنے جو نوع بشر کے لے رگ جاں سے
نیا ہو یا کہ پرانا ، وہ نقش تازہ ہے
لہو حسین یا ہم سے گناہگار کا ہو
جو راہ حق میں بہے، زندگی کا غازہ ہے
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں