تم تو اہل قلم ہو




تم تو اہل قلم ہو
بہت کچھ لکھا ہے بہت کچھ لکھو گے
صداؤں کے خالق ہو
لفظوں کے نباض ہو
قلم کے چلانے میں فیاض ہو
محبت کے تم بیج بوتے رہے ہو
مگر ایسا کیوں ہے
کہ ان سے لگاتا رنفرت ہی اگتی رہی ہے
تمہاری شب و روز کی یہ ریاضت
جو اخلاص و ایثار کی انتہا تھی
ہوئی نذر سیلاب یوں
جیسے صحرا میں کوئی صدا تھی
کبھی تم نے سوچا ہے یہ کیا فسوں ہے
یہ کیسا سفر ہے یہ کیسا جنوں ہے
یہ مانا کہ تم خواہشیں پالنے میں بڑے سورما ہو
مگر اس جہنم کے سیال لا وے کا کیا ہو مداوا
جو مشرق و مغرب کے کھلیانوں کو
اپنا ایندھن بنانے میں
صدیوں سے مصروف ہے
اگر تم سرابوں کو ہی اپنے خوابوں کا ضامن
سمجھتے رہو گے
تو قارون عصر رواں کے
اس آتشکدے کے الاؤ کو
گلزار کے مہکے پھولوں کی تعبیر کیونکر ملے گی
یہ تم کس براہیم کی جست کے منتظر ہو ؟
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں