شکست




نہ اتنا محتاط بھی ہو کوئی
کہ بھیگنے کو عذاب جانے
ذراسی بدلی سے خوف کھا کر
لگائے منطق کے شامیانے
نہ اتنا مجبور بھی ہو انساں
کہ اپنے لفظوں سے ہار مانے
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں