نہ سوچو کہ وہ منزلیں دور ہیں




نہ سوچو کہ وہ منزلیں دور ہیں
سفر کا اب آغاز کر ہی لیا ہے
تو پھر یہ نہ سوچو
کہ راہیں کڑی ہیں
ہر اک موڑ پر سوصلیبیں گڑی ہیں
کہیں راستوں میں درندوں کی ہے حکمرانی
کہیں سر سے اونچا ہے پانی
نہ سوچو کہ وہ منزلیں دور ہیں
جن کے راہی ہو تم
نہ سمجھو جیالے وہ محصور ہیں
جن کی سچائیوں کی گواہی ہو تم
کہ سچا ئیوں کی گواہی ہو تم
کہ سوچوں کی منجد ھارمیں جو بھی ڈوبا
وہ ابھر نہیں
سفر کوئی بھی ہو
کبھی گہری سوچوں سے کٹتا نہیں
غم و رنج سے درد بٹتا نہیں
کہ سوچیں
جب ادراک کی الجھنوں سے گزرتی ہیں
مفلوج کرتی ہیں
راہ عمل میں جنوں چاہیے
عزائم کی دیوانگی کا فسوں چاہیے
ابلتا ہوا گرم خوں چاہیے
فارغ بخاریؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں