اپنی خاطر ہی بنے ہیں تالے




اپنی خاطر ہی بنے ہیں تالے
عمر بھر ساتھ چلے ہیں تالے
ہم عجب قیدی ہیں فرحت جن کے
آنسوؤں پر بھی لگے ہیں تالے
تم ہمیں کہتے ہو دروازوں کا
ہم نے زخموں کو دئیے ہیں تالے
بے سہاروں کے گھروں پر یارو
کس قدر خوب سجے ہیں تالے
سب مدد گاروں کے درازوں پر
ہم کو مشکل میں ملے ہیں تالے
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں