رتجگا




رات کی زلفوں میں جانے کیا ہے
آنکھ کے شانوں پ لہراتے ہی
ہر طرف دھوپ جگا دیتی ہیں
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں