محبت کا شجر مہنگا پڑا ہے




محبت کا شجر مہنگا پڑا ہے
ہمیں اک اک ثمر مہنگا پڑا ہے
کہانی ایک شاعر کی ہے لوگو !
جسے دل کا سفر مہنگا پڑا ہے
جنہوں نے دے کے جاں حاصل کیا تھا
انہی کو یہ نگر مہنگا پڑا ہے
کوئی بھی جاگنے والا نہیں تھا
ہمیں وقت سحر مہنگا پڑا ہے
تمہیں یہ راستے اچھے نہ ہونگے
مگر ہم کو تو گھر مہنگا پڑا ہے
دل ابھی لوٹا نہیں
صبح سے نکلا ہوا ہے گھر سے
رات بھی بیت چلی ہے اب تو
جانے کس بیتے ہوئے وصل کے کملائے ہوئے درپہ
پڑ اہوگا کہیں
جانے کس الجھے ہوئے ہجر کے زالوپہ ذرا ٹیک کے سر
چین سے سویا ہوگا
دل ابھی لوٹا نہیں
صبح سے نکلا ہوا ہے گھر سے
آگیا ہوگا کسی درد کے بہلاوے میں
اور کسی راہ کے ویراں کنارے پہ پڑا خوب بلکتا ہوگا
آتے جاتے ہوئے ہر ایک مسافر کی طرف
ایک سہمی ہوئی امید سے تکتا ہوگا
سوچتا ہو گا جدائی کی کوئی انت نہیں
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں