ہوائیں لوٹ آئی ہیں




ہوائیں لوٹ آئی ہیں
اگرچہ میں سمجھتا تھا
کہ کوئی راستہ لوٹا نہیں کرتا
نہ دریا مڑ کے آتے ہیں
نہ شامیں واپسی کی سوچ پر ایمان رکھتی ہیں
اگر چہ میں سمجھتا تھا
کہ لمحے تو فقط آگے ہی بڑھتے ہیں
مگر افسردگی کی اس پرانی رو سے لگتا ہے
جو میرے دل پہ چھائی
محبت میں تو کچھ بھی طے نہیں ہوتا
محبت کب کسی بھی طے شدہ رست پہ چلتی ہے
مری افسردگی چپکے سے میرے کان میں کہتی ہے
فرحت سوچتے کیا ہو
یہ دیکھو
یہ بھلا کیکیا ہے
ذرا آنکھٰں تو کھولو نیند میں ڈوبے ہوئے غم کی
ہوائیں لوٹ آئی ہیں
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں