شام کے درد سے جھولی بھر لی




شام کے درد سے جھولی بھر لی
ہجر کی گرد سے جھولی بھر لی
بھری دنیا میں ہمارے دل نے
ایک ہی فرد سے جھولی بھر لی
ایک آنسو نے ذرا سا بڑھ کر
عارض زرد سے جھولی بھر لی
تو گیا ہے تو مرے رستوں نے
اک جہاں گرد سے جھولی بھر لی
اس نے کچھ بھی نہ کہا اور ہم نے
لمحہ سرد سے جھولی بھر لی
یہ تو خود بانجھ ہے اے دھرتی ماں
تو نے کس مرد سے جھالی بھر لی
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں