سب نے پوچھا درخت کیسا ہے




سب نے پوچھا درخت کیسا ہے
دیکھ لو دل کا بخت کیسا ہے
دیکھنے آئے ہیں نگر والے
شیشہ لخت لخت کیسا ہے
بے قراری، اداسیاں اور غم
ایک شاعر کا رخت کیسا ہے
لوگ حیرت زدہ ہیں بستی کے
دل موقف میں سخت کیسا ہے
دیکھنے آ کبھی مرے اندر
پیار کا تاج و تخت کیسا ہے
فرحت عباس شاہ ؔ
( کتاب ۔ شام کے بعد )




اپنا تبصرہ بھیجیں