پیروں دشت سر پہ کھلا آسمان ہے




پیروں دشت سر پہ کھلا آسمان ہے
اے جستجو سنبھل کہ ترا امتحان ہے
میرا یقین تجھ پہ کبھی ڈولتا نہیں
میری مخالفت میں اگرچہ جہان ہے
میں تشنگئی شوق پہ کیونکر اداس ہوں
یہ پیاس ہی تو میری وفا کا نشان ہے
آئی ہے موت مانگنے شہزاد زندگی
ماتھے پہ اس کی تیری ظفر کا نشان ہے
فرحت شہزاد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں