خدا چپ ہے، خدا گر بولتے ہیں




خدا چپ ہے، خدا گر بولتے ہیں
سنو مسجد میں آزر بولتے ہیں
جدا ہوتے ہوئے پہ یاد رکھنا
کہ پتھر چوٹ کھا کر بولتے ہیں
سنائی کچھ نہیں دیتا کسی کو
اگرچہ سارے منظر بولتے ہیں
بہت سے لفظ جو گم سم پڑے تھے
مری غزلیں پہن کر بولتے ہیں
فرحت شہزاد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں