اب ڈونڈتا ہوں وہ لئے آنکھوں میں سمندر




اب ڈونڈتا ہوں وہ لئے آنکھوں میں سمندر
سینے میں لئے آگ جو نکلا تھا سفر پر
باہر کی ہی سج دھج پہ بسا بیٹھے ہو دل میں
پھر کہتا ہوں اک بار ذرا جھانک لو اندر
جو مجھ کو ملا ہے مری محنت کا وہ حق تھا
جو مل نہ سکا وہ ہے مری جان مقدر
اندر کی گھٹن تیرا گلا گھونٹ ہی دے گی
ہو پائے تو اک زور نکل آپ سے باہر
ہر راستہ منزل کی طرف جاتا ہے جاناں
ہو عزم سفر ساتھ اگر صورت رہبر
فرحت شہزاد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں