وجہ تاریکئی شب پھر شہ خاور ٹھہرا




وجہ تاریکئی شب پھر شہ خاور ٹھہرا
میرے زخموں کا سبب پھر مرا دلبر ٹھہرا
میں جسے دشت کی تمثیل کہا کرتا تھا
آنکھ میں پھیل کے وہ اشک سمندر ٹھہرا
دشت جب آخری تنہائی کی حد تک پہنچا
جب کہیں دل کی نظر میں وہ مرا گھر ٹھہرا
دکھ سے شہزاد اکیلا ہی الجھتا کب تک
یہ تو اچھا ہوا دل دکھ کا شناور ٹھہرا
فرحت شہزاد ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں